قوت گویائی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بولنے، بات کرنے کی قدرت۔ "اس وقت مجھے پتہ چلا کہ بے چاری قوت گویائی ہی سے محروم ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، خاک نشین، ٧٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'قوت' بطور مضاف کے ساتھ فارسی زبان کے اسم 'گویائی' بطور مضاف الیہ لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٣٨ء کو "حالات سرسید" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بولنے، بات کرنے کی قدرت۔ "اس وقت مجھے پتہ چلا کہ بے چاری قوت گویائی ہی سے محروم ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، خاک نشین، ٧٨ )

جنس: مؤنث